سامع نواز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سامعہ نواز، سننے میں اچھا لگنے والا، کانوں کو بھلا لگنے والا۔ "پہلے قسم کے گیت ترنم اور شیرینی کے باعث سامع نواز ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٤٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'سامع' کے بعد فارسی مصدر 'نواختن' سے صیغہ امر 'نواز' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٩٨٦ء سے "اردو گیت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سامعہ نواز، سننے میں اچھا لگنے والا، کانوں کو بھلا لگنے والا۔ "پہلے قسم کے گیت ترنم اور شیرینی کے باعث سامع نواز ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ٤٣ )

جنس: مذکر